رہین دشت Posted on August 25, 2010 by alleey غریق فکر ہوں کہ مدت سے کچھ نہیں بدلا صف دراز میں ساکت گمان سارے ہیں درون سینہ ہے اک قلب ناصبور ایسا شکار جس کے تغیر کے عزم سارے ہیں یقیں کی آخری حد سے پلٹ کے دیکھا کیا نقوش پا کے تعاقب میں وہم سارے ہیں بے انتہا کی محبت میں انتہائے جاں گزر مقام سے، آگے وصال سارے ہیں حذر اے قیس تو صحرا سے رہ ذرا محتاط گیاہ لیلی سے پہلے سراب سارے ہیں تری بساط ہی کیا ہے اے مردک ناداں رہین دشت سے بہتر رحیل سارے ہیں Share this:TwitterLinkedInFacebookStumbleUponDiggRedditLike this:LikeOne blogger likes this post.
جی۔
is this your own poetry ?